اتوار 27 ستمبر 2026 - 21:41
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’’حسین ڈے‘‘؛ کربلا کے پیغامِ حق، عدل اور انسانی وقار پر فکر انگیز گفتگو

حوزہ/ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بیت الصلوٰۃ میں ’’حسین ڈے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں امام حسینؑ کی سیرت، کربلا کے پیغامِ حق و عدل اور اس کی عالمگیر معنویت پر علماء، اساتذہ، شعراء اور طلبہ نے فکر انگیز گفتگو اور نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،علی گڑھ/ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بیت الصلوٰۃ میں منعقدہ ’’حسین ڈے‘‘ کی بزم اس شام ایک ایسی معنوی کائنات کا منظر پیش کر رہی تھی جہاں الفاظ چراغ تھے، اشعار خوشبو، خطابات صدائے حق اور ذکرِ حسینؑ دلوں کے لیے روشنی کا مینار۔ اس پُروقار تقریب کی صدارت ڈاکٹر سدھارتھ چکرورتی، شعبۂ انگلش، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے فرمائی۔ ان کی صدارت میں منعقد ہونے والی یہ محفل گویا کربلا کے اُس چراغ کی تجدید تھی جسے صدیوں پہلے نیزوں کے سائے میں روشن کیا گیا تھا اور جس کی لو آج بھی انسانی ضمیر کے اندھیروں کو چیر رہی ہے۔

تقریب کا آغاز محمد اختر کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ تلاوت کی روح پرور فضا نے محفل کے لیے گویا ایک نورانی دروازہ کھول دیا، جس کے بعد طلبہ کامران حسین، محمد حسن، شایان اور ولایت جعفر نے قصائد پیش کرکے بارگاہِ حسینیؑ میں اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ ان کی آوازوں میں صرف نغمگی نہیں تھی بلکہ نئی نسل کے دل میں زندہ حسینیت کی وہ دھڑکن تھی جو وقت کے فاصلے سے بے نیاز ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’’حسین ڈے‘‘؛ کربلا کے پیغامِ حق، عدل اور انسانی وقار پر فکر انگیز گفتگو

اس کے بعد شعراء نے اپنے اپنے تخیل کے چراغ روشن کیے۔ پروفیسر مہتاب حیدر نقوی، ڈاکٹر اصغر اعجاز قائمی، ڈاکٹر عباس رضا، مولانا احمد مجلسی، مولانا ممتاز عباس افق، کاظم جارچوی، علی رضا اسیر، ڈاکٹر مہتاب احمد، دانش زیدی اور احمد کاظمی نے امام حسینؑ کی بارگاہ میں اشعار کا نذرانہ پیش کیا۔ کسی کے شعر میں کربلا صبر کا کوہِ گراں بن کر ابھری، کسی کے لفظوں میں حسینؑ حق کے آسمان کا وہ روشن ستارہ تھے جس کی روشنی ظلمتوں کے صحراؤں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔ کسی نے شہادت کو گلستانِ وفا کی خوشبو بنایا اور کسی نے حسینیت کو ایسا دریا قرار دیا جو خون سے گزرتا ہوا انسانیت کے سمندر تک پہنچتا ہے۔

کربلا دراصل ایک ایسی کتاب ہے جس کے صفحات خون سے لکھے گئے، مگر جس کا ہر لفظ انسانیت کے لیے روشنی بن گیا۔

تقریب کے مقررین ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی، چیئرمین شعبۂ دینیاتِ شیعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ڈاکٹر رضا عباس، ڈاکٹر حیدر حسینی، ڈاکٹر شاہ محمد عباس وسیم اور ڈاکٹر طیب رضا نقوی نے حضرت امام حسینؑ کی شخصیت، سیرت، کردار اور قیامِ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر مؤثر اور فکر انگیز خطابات پیش کیے۔

ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی نے امام حسینؑ کی شخصیت کو حق، صداقت، شجاعت اور انسانی عظمت کا آئینہ قرار دیتے ہوئے کربلا کے پیغام کی معنویت کو اجاگر کیا۔ ان کے خطاب میں حسینیت محض ایک تاریخی عنوان نہیں بلکہ ضمیر کی وہ آواز بن کر سامنے آئی جو ہر دور کے انسان سے سوال کرتی ہے کہ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو انسان کس صف میں کھڑا ہوگا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’’حسین ڈے‘‘؛ کربلا کے پیغامِ حق، عدل اور انسانی وقار پر فکر انگیز گفتگو

دیگر مقررین نے بھی اپنے اپنے انداز میں امام حسینؑ کے کردار اور کربلا کے پیغام کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کے خطابات میں کہیں کربلا استقامت کا پہاڑ تھی، کہیں آزادی کی صبح اور کہیں انسانی شرف کا آخری مورچہ۔

محفل کی خصوصی اور نمایاں جہت ڈاکٹر سدھارتھ چکرورتی، شعبۂ انگلش، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا خطاب تھا۔ انہوں نے کربلا کے حوالے سے نہایت مؤثر اور فکر انگیز گفتگو فرمائی۔ ان کی گفتگو میں کربلا مذہبی تاریخ کے ایک واقعے سے آگے بڑھ کر انسانی ضمیر کا استعارہ بن گئی۔ ان کے الفاظ نے کربلا کو اس آئینے کی طرح پیش کیا جس میں ہر عہد اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے؛ جہاں ظلم کے مقابلے میں خاموشی اور حق کے لیے استقامت کے درمیان انسان کو اپنا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

کربلا کی یہی عالمگیریت ہے کہ حسینؑ کا خیمہ اگرچہ ریت کے ایک میدان میں تھا، مگر اس کے سائے میں پوری انسانیت آج بھی پناہ تلاش کرتی ہے۔

محفل کے ہر ذاکر کی زبان سے حسینیت کے مختلف رنگ نمایاں ہوئے۔ کسی نے حسینؑ کو حق کی وہ اذان قرار دیا جو صدیوں سے باطل کے ایوانوں میں گونج رہی ہے، کسی نے انہیں وفا کے آسمان کا ماہتاب کہا، کسی نے کربلا کو صبر کی وہ بھٹی قرار دیا جہاں انسانیت کا کردار کندن بن کر نکلا۔

حسینیت دراصل تلوار کی دھار پر لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جسے خون نے مٹنے نہیں دیا۔ حسینؑ وہ چراغ ہیں جسے بجھانے کے لیے پورا لشکر آیا تھا، مگر ہوا نے چراغ بجھانے کے بجائے اس کی روشنی کو دنیا کے ہر گوشے تک پہنچا دیا۔ حسینیت وہ سفر ہے جس میں منزل صرف کربلا نہیں؛ منزل حق، عدل، آزادی، وفا اور انسانی وقار ہے۔

تقریب کی نظامت مولانا احمد مجلسی نے نہایت شائستگی، برجستگی اور ادبی حسن کے ساتھ انجام دی۔ ان کی نظامت نے محفل کے تمام رنگوں—تلاوت، قصائد، اشعار اور خطابات—کو ایک خوبصورت لڑی میں پروئے رکھا۔

اختتام پر پروفیسر طیب رضا نقوی نے تمام مقررین، شعراء، طلبہ، اساتذہ اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ محفل میں طلبہ اور سامعین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور بیت الصلوٰۃ کا ماحول ذکرِ حسینؑ، محبتِ اہل بیتؑ اور فکرِ کربلا سے معمور رہا۔ تقریب کے بعد شرکائے محفل کے لیے بہترین عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جس نے اس یادگار شام کو مزید خوشگوار بنا دیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’’حسین ڈے‘‘؛ کربلا کے پیغامِ حق، عدل اور انسانی وقار پر فکر انگیز گفتگو

یوں ’’حسین ڈے‘‘ صرف ایک تقریب بن کر ختم نہیں ہوا؛ یہ ایک ایسی شام بن گیا جس کے بعد بھی اس کے چراغ دلوں میں جلتے رہے۔

کربلا گزر گئی، مگر کربلا کی روشنی نہیں گزری؛

حسینؑ شہید ہوئے، مگر حسینیت شہید نہیں ہوئی؛

اور یہی وہ راز ہے کہ ہر دور کی تاریکی کے مقابل

کربلا آج بھی ایک روشن چراغ بن کر کھڑی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha